بنگلورو،9؍مارچ(ایس او نیوز)بنگلورو شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کیلئے شمال جنوب، اور مشرق مغرب بالائی کاریڈور کی تعمیر شروع کرنے کیلئے توسیعی پراجکٹ رپورٹ تیار کی جارہی ہے۔یہ بات آج وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج نے بتائی۔ انہوں نے کہاکہ پندرہ تا بیس ہزار کروڑ روپیوں کی لاگت کے منصوبے کو شروع کرنے کیلئے حکومت تیار ہے۔اس غیر معمولی بالائی کاریڈور پراجکٹ کی تعمیر میں سرمایہ لگانے کیلئے غیر ملکی کمپنیاں تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سرمایہ لگانے پر آمادہ کمپنیوں سے حکومت بات چیت کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت چاہتی تھی کہ چالوکیہ سرکل سے ہبال فلائی اوور تک اسٹیل برڈج کی تعمیر کے ذریعہ شہر کی ٹریفک کو کافی حد تک قابو میں کیا جائے، لیکن بدقسمتی سے یہ پراجکٹ سیاست کی نذرہوگیا۔ اسی لئے حکومت کو متبادل منصوبوں پر غور کرنا پڑ رہاہے۔ اس موقع پر کے جے جارج نے بی بی ایم پی کی پبلک ورکس کمیٹی کے زیر اہتمام 2016-17کے گرانٹس کے تحت مختلف 2069 کاموں کیلئے طلب کئے گئے ٹنڈرس میں سے 728 کاموں کی تکمیل کیلئے ورک آرڈرس جاری کئے۔ بی بی ایم پی صدر دفتر کے ڈاکٹر راجکمار گلاس ہاؤز میں منعقدہ تقریب میں 8؍ بی بی ایم پی ڈویژنوں کے کنٹراکٹروں کو علامتی طور پر ورک آرڈر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مسٹر جارج نے افسران کوسخت ہدایت دی کہ ورک آرڈر جاری کرنے کے بعد ہاتھ باندھے بیٹھے رہنے کی بجائے وہ کام کے معیار کی مسلسل نگرانی کریں۔ انہوں نے کہاکہ ٹنڈر میں شامل کنٹراکٹرس پر یہ لازمی قرار دیاگیا ہے کہ وہ ایس آر ریٹ میں کسی طرح کا اضافہ نہ کریں۔ اپنے کام کی پیش رفت کے متعلق تمام دستاویزات وقتاً فوقتاً حکومت کو پیش کرتے رہیں۔ کام میں کسی بھی طرح کی کوتاہی یا دھاندلی کی شکایت کی گئی تو متعلقہ کنٹراکٹروں کو کام کے بل کی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت نے شہر کی ترقی کیلئے 7300کروڑ روپیوں کے گرانٹس منظور کئے ہیں۔ حال ہی میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ شہر کی 50 فیصد سے زائد سڑکوں کو وائٹ ٹاپنگ میں بدلا جائے گا۔ ریاستی حکومت نے جو گرانٹس جاری کئے ہیں اس کا استعمال ان کاموں کیلئے کیا جائے گا۔وزیر موصوف نے بتایاکہ بی بی ایم پی کی حدود میں 16؍ لاکھ جائیدادوں کو اثاثہ ٹیکس کے دائرہ میں لایا گیا ہے۔آنے والے دنوں میں مزید جائیدادوں کو اس کے تحت شامل کیا جائے گا، لیکن اثاثہ ٹیکس کی وصولی میں افسران کی لاپرواہی افسوسناک ہے۔آنے والے دنوں میں جی پی ایس سروے کے ذریعہ اثاثہ ٹیکس کے دائرہ میں آنے والی اور نہ آنے والی جائیدادوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ شہر کی جائیدادوں کا سروے کرنے کیلئے اگر بی بی ایم پی کے پاس سرویرس کم ہیں تو انہیں انجینئرنگ کالجوں کے طلبا کی خدمات حاصل کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ شہریان بنگلور جب ماہانہ پانی ، بجلی اور موبائل کیلئے ہزاروں روپے ادا کرسکتے ہیں تو پھر اثاثہ ٹیکس ادا کرنے میں لاپرواہی کیوں برتیں گے۔افسران کی طرف سے اس کی وصولی پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ میئر پدماوتی نے اس موقع پر کہاکہ اگلے دو ماہ میں بارش کا موسم شروع ہونے والا ہے، ورک آرڈرحاصل کرنے والے کنٹراکٹروں کو بارش کی شروعات سے پہلے اپنے سارے کام مکمل کرلینے ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ بعض کنٹراکٹروں نے تین چار الگ الگ پیاکیجس منظور کروائے ہیں ، لیکن شکایت ہے کہ ان کی طرف سے کام نہیں کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ اراکین اسمبلی سے گذارش کی جائے گی کہ اپنے اپنے حلقوں میں ہونے والے کاموں پر نظر رکھیں۔ اپوزیشن لیڈر پدمانابھا ریڈی نے اس موقع پر کہاکہ جن کنٹراکٹروں نے کام مکمل کرلئے ہیں ان کے بل ادا نہیں کئے جارہے ہیں، حکومت نے اگر ایک ہزار کروڑ روپیوں کی امداد بی بی ایم پی کو جاری کی تو ان کنٹراکٹروں کے بل ادا ہوسکیں گے۔پچھلے دو تین سالوں سے ان کنٹراکٹروں کو بل ادا نہیں کئے گئے ہیں ، جس کی وجہ سے یہ لوگ ٹنڈرنگ کے عمل میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔اس موقع پر وارڈ ورکس کمیٹی کے چیرمین بی بھدرے گوڈا نے بتایاکہ 465کروڑ روپیوں کے گرانٹس سے 2069کاموں کیلئے ٹنڈر طلب کئے گئے۔ ان میں سے 1526 کاموں میں سے 728 کیلئے آج ورک آرڈر جاری کیاجارہا ہے۔ان میں سڑکوں کی مرمت ، نالوں کی ڈی سلٹنگ اور مرمت ، اسٹریٹ لائٹوں کی تبدیلی ومرمت، بیت الخلاء کی تعمیر اور دیگر چھوٹے موٹے کام شامل ہیں۔اس موقع پر بی بی ایم پی کمشنر منجوناتھ پرساد ، بی بی ایم پی میں حکمران پارٹی لیڈر محمد رضوان نواب ، بی بی ایم پی ٹیکس اینڈ فائنانس کمیٹی چیرمین ایم کے گناشیکھر وغیرہ موجودتھے۔